ملزم سکیورٹی کا حق دار نہیں: اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی محمد دیپک کی درخواست پر سخت برہمی

دہرادون، سیل رواں ڈیسک

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے محمد دیپک نامی شخص کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملزم کس بنیاد پر پولیس تحفظ کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے مطالبات نہ صرف غیر مناسب ہیں بلکہ تفتیشی عمل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

جسٹس راکیش تھپلیال کی بنچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کے ساتھ سکیورٹی مانگنا قابلِ قبول نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست میں شامل دیگر مطالبات کو بھی غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معاملے کو غیر ضروری طور پر سنسنی خیز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

درخواست گزار، جس کا اصل نام دیپک کمار بتایا جاتا ہے اور جو "محمد دیپک” کے نام سے معروف ہوا، نے عدالت سے ایف آئی آر منسوخ کرنے، پولیس کے خلاف کارروائی اور اپنی جان کو خطرہ بتاتے ہوئے سکیورٹی فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مذکورہ شخص ایک مسلم دکاندار کے حق میں آواز اٹھاتا دکھائی دیا۔ اس کے بعد اس کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا، جس کے پیش نظر اس نے عدالت سے رجوع کیا۔

ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔