بہار کی سیاست میں بڑی تبدیلی کا امکان، بی جے پی کو وزیراعلیٰ اور جے ڈی یو کو دو نائب وزرائے اعلیٰ مل سکتے ہیں

پٹنہ، 20 مارچ: بہار کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں، جہاں حکمراں اتحاد کے اندر طاقت کا توازن بدلنے کی تیاری جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے درمیان ایک نئے فارمولے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اقتدار کی باگ ڈور بی جے پی کے ہاتھ میں جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مجوزہ فارمولے میں بی جے پی “بڑے بھائی” کے کردار میں آتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال سکتی ہے، جبکہ جے ڈی یو کو دو نائب وزرائے اعلیٰ کے عہدے دیے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ یہ تبدیلی آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔

اس ممکنہ تبدیلی کے ساتھ ریاستی حکومت کے ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی کو وزیر اعلیٰ کے ساتھ تقریباً 15 وزارتیں مل سکتی ہیں، جبکہ جے ڈی یو کو دو نائب وزرائے اعلیٰ سمیت تقریباً 16 وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔ وزارتِ داخلہ اور اسمبلی اسپیکر کا عہدہ بھی بی جے پی کے پاس رہنے کا امکان ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جلد ہی راجیہ سبھا کے رکن بننے جا رہے ہیں، جس کے بعد وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ براہِ راست مرکزی حکومت میں شامل ہونے کے بجائے پارلیمانی سیاست میں سرگرم رہیں گے اور پارٹی کی قومی سطح پر تنظیم سازی پر توجہ دیں گے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بھی چرچا ہے کہ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو فعال سیاست میں لانے کی تیاری ہے، اور ممکن ہے کہ انہیں نائب وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

یہ مجوزہ فارمولہ نہ صرف بہار کی موجودہ سیاسی ترتیب کو بدل سکتا ہے بلکہ حکمراں اتحاد کے اندر طاقت کے توازن کو بھی مکمل طور پر نئے سرے سے متعین کر سکتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔