کٹنی و جبل پور میں پھنسے ارریہ کے طلبہ کی واپسی قریب، ایک دو دن میں اہلِ خانہ کے سپرد کیے جانے کا امکان

پٹنہ/کٹنی: مدھیہ پردیش کے کٹنی اور جبل پور ریلوے اسٹیشنوں پر موجود بہار کے ضلع ارریہ کے طلبہ کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ان کی واپسی کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

جمعیت علماء بہار کے نائب صدر محمد اطہر القاسمی کے مطابق، امکان ہے کہ ایک سے دو دن کے اندر تمام طلبہ کو ان کے اہلِ خانہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ کے اہلِ خانہ سے صبر و تحمل کی اپیل بھی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، ان طلبہ کے معاملے کی نگرانی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (CWC) کی جانب سے کی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ انتظامیہ نے زیادہ تر تفتیش مکمل کر لی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ارریہ سے آئے تقریباً 60 سے 65 سرپرستوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے، جب کہ بعض طلبہ کے سرپرستوں کی رپورٹ ابھی متعلقہ محکمہ کو موصول نہیں ہوئی ہے۔

اس سلسلے میں کٹنی کی معروف سماجی شخصیت اور انجمن اسلامیہ ٹرسٹ کے صدر الحاج قیس احمد کی کوششیں بھی نمایاں رہی ہیں، جنہوں نے وکلاء کی ٹیم کے ساتھ مل کر طلبہ کی رہائی اور واپسی کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔

ذرائع کے مطابق، طلبہ کی واپسی کے لیے ریلوے کی تین بوگیوں کی بکنگ بھی کر لی گئی ہے اور سرکاری اخراجات پر انہیں جلد ہی ان کے آبائی وطن روانہ کیا جائے گا۔ وہاں پہنچنے کے بعد طلبہ کو ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اس پورے معاملے میں جمعیت علماء بہار اور جمعیت علماء مدھیہ پردیش کے ذمہ داران و کارکنان کی خدمات قابلِ تحسین رہی ہیں، جنہوں نے ابتدا ہی سے طلبہ کی رہنمائی، قانونی معاونت اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ مشکل حالات کے باوجود جس سنجیدگی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ انہوں نے اس معاملے کو آگے بڑھایا، وہ سماجی خدمت کی ایک نمایاں مثال ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔