نئی دہلی: مودی حکومت کو اس وقت ایک اہم سیاسی دھچکا لگا جب اس کا پیش کردہ آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ بل کی منظوری کے لیے خصوصی اکثریت درکار تھی، تاہم حکومت مطلوبہ تعداد پوری نہ کر سکی، جس کے باعث بل منظور نہیں ہو پایا۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق بل کے حق میں 298 ووٹ پڑے جبکہ 230 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس طرح یہ کئی دہائیوں میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سرکاری آئینی ترمیمی بل کو ایوان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کے بعد کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب حکومت کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کا اندازہ تھا تو بل کو ایوان میں پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ساتھ ہی اپوزیشن سے پیشگی مشاورت نہ کرنے اور عجلت میں بل لانے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر بل کی مخالفت کی اور حکومت کی جانب سے آخری وقت میں پیش کی گئی مفاہمتی تجاویز کو بھی مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے اہم آئینی معاملے پر سنجیدہ بحث اور وسیع اتفاقِ رائے ضروری تھا، جسے نظرانداز کیا گیا۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت نے ممکنہ طور پر ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت یہ قدم اٹھایا۔ ان کے مطابق حکومت اس معاملے کو سیاسی طور پر استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کو رکاوٹ کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے یا دیگر اہم مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ادھر یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی جیسے معاملات پر سیاسی کشمکش آئندہ بھی جاری رہے گی اور یہ تنازع فی الحال ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔