از:- کنال پاٹھک
مغربی بنگال کے 2026 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ہندوستانی جمہوریت کی بنیادوں پر ایک بار پھر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض ایک ریاستی انتخاب نہیں رہا بلکہ اس نے انتخابی شفافیت، اداروں کی غیر جانبداری اور آئینی اصولوں کی پاسداری جیسے بنیادی امور کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
جب انتخابی عمل ہی مشکوک ہو جائے تو اس کے نتائج کو جمہوری کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال بنگال کے حالیہ انتخابات کے بعد سب سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات
انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل نے سب سے زیادہ تنازعہ پیدا کیا۔ اس دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے۔ یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس عمل میں خاص طور پر اقلیتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا گیا۔
ناموں کے اخراج کے لیے جو بنیادیں پیش کی گئیں، وہ نہایت کمزور اور متنازعہ قرار دی جا رہی ہیں۔ جیسے ہجے کی معمولی غلطیاں، عمر میں فرق یا خاندانی تفصیلات میں تضاد۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ انتخابی میدان کو یکساں رکھنے کے بجائے اسے ایک مخصوص سمت میں موڑا گیا۔
اداروں کی خاموشی پر سوال
اس پورے عمل کے دوران سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ رہا کہ جمہوری ادارے اپنی مؤثر موجودگی کا ثبوت دینے میں ناکام نظر آئے۔ عدلیہ کی جانب سے کوئی سخت مداخلت سامنے نہیں آئی، جبکہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس معاملے پر سنجیدہ سوال اٹھانے سے گریزاں دکھائی دیا۔
یہ صورتحال اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ ملک کے کلیدی ادارے اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں یا پھر دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں۔
غیر مساوی انتخابی میدان
جب ووٹر لسٹ میں اس طرح کی تبدیلیاں کی جائیں تو انتخابی مقابلہ پہلے ہی غیر مساوی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ اس پورے عمل سے ایک خاص سیاسی قوت کو فائدہ پہنچا، جبکہ اس کے مخالف ووٹ بینک کو کمزور کیا گیا۔
جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی
بنگال کے انتخابات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اسی طرز پر انتخابی عمل کو متاثر کیا جاتا رہا تو مستقبل میں انتخابات محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائیں گے، جہاں حقیقی عوامی رائے کی عکاسی نہیں ہوگی۔
یہ صورت حال نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی جمہوریت کے لیے بھی خطرناک اشارہ ہے۔ بنگال کے حالیہ انتخابات اسی گہرے بحران کی علامت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جہاں سوال صرف ایک ریاست کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری مستقبل کا ہے۔