گائے کو قومی جانور قرار دینے کی مانگ کے مضمرات

از:- عدیل اختر

جمیعت علماء ہند کے صدر مولوی ارشد مدنی صاحب نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کی مانگ کی ہے، جس کے بعد جمیعت کے دوسرے عہدیداروں نے بھی اس پر زور دینا شروع کردیا ہے۔ بہت سے مسلمان اسے ایک سیاسی شوشہ یا ترپ کی چال سمجھ کر اس کی تائید کرنے لگے ہیں ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دیا گیا تو بیف ایکسپورٹ کا کاروبار جو زیادہ تر گائے پجاری ہندؤوں کے ہاتھ میں ہی ہے بند ہوجائے گا اور حکومت کو زر مبادلہ اور ٹیکس سے ہونے والی خطیر آمدنی کا نقصان جھیلنا ہوگا ، نیز فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بیف پروسنے پر بھی قدغن لگے گی اس لئے حکومت گائے کو قومی جانور قرار دینے کا نقصان دہ سودا نہیں کرے گی مگر مسلمانوں کی طرف سے ایک دباؤ حکومت اور ہندوتوادی تنظیموں پر بنے گا ۔ اس لئے اسے ارشد مدنی صاحب کا سیاسی تیر سمجھا جارہا ہے جو انھوں نے ہندوتوادیوں پر چلایا ہے۔ ارشد صاحب کی منشاء یہی ہو بھی سکتی ہے ۔ مگر اس کے مضمرات پر نہ ارشد مدنی صاحب نے خود غور کیا ہے نہ ان کے عقیدت مندوں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہی ہے کہ اگرحکومت اس مانگ کو پورا نہیں کرسکتی تو پھر یہ مانگ کرنے سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوگا ؟ کیا اس کے جواب میں گائے ذبح کرنے کی آزادی دینے پر حکومت مجبور ہوگی؟ ظاہر ہے کہ نہیں ۔ اور بالفرض اگر یہ اجازت ملی بھی تو کیا آپ گائے ذبح کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتے ہیں؟ آپ تو ہندؤوں کی آستھا کے احترام میں گائے اور گائے ونش کو ذبح نہ کرنے کا سبق مسلمانوں کو پڑھاتے رہے ہیں ۔

لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ برہمنوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی منشاء دوسروں سے پوری کراتے ہیں ۔ برہمنوں نے اپنے بنائے گئے دھرم میں گائے کو مقدس ٹھہرا رکھاہے اور یہ روایت صدیوں پرانی ہو چکی ہے اس لیے یہ بلاشبہ ان کا مذہبی شعار ہے جسے وہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ گائے کاٹنا ہندو دھرم کے پیروکاروں کے لئے صدیوں سے مذہبی اشتعال کا سبب رہا ہے اور اس بہانے وہ مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ سے فساد مچاتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے یہ کہ ایک بے کردار قوم ہے جو مادی فائدوں کے لئے یہودیوں کی طرح اپنے مذہب میں تحریف اور خلاف ورزی کرنے کی خوگر ہے۔ اس کی دھارمک آستھا دوسری قوموں سے نفرت کے لئے توجاگتی ہے مگر اپنے مفاد کے لئے سوئی رہتی ہے ۔ اس وجہ سے گائے کو قومی جانور قرار دے کر تمام غیر ہندوؤں کو اس کی عقیدت پر مجبور کرنا ان ہندوتوادیوں کی منشاء ہے۔ مگر چوں کہ بہت سے علاقوں اور طبقوں میں گائے کا گوشت کھانے کا چلن ہے اس لیے پورے ملک میں گائے کاٹنے پر پابندی لگانے کی منشاء کو پورا کرنے کے لئے وہ خود مخالفت مول لینے کے بجائے ارشد مدنی صاحب جیسے لوگوں کے مطالبے کو بنیاد اور جواز بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

لیکن ان باتوں سے بھی زیادہ خطرناک پہلو ایک اور ہے جس کا تعلق مسلمانوں کے ایمان سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ کی حلال کی ہوئی کسی چیز کو حرام کرلینا یا حرام چیز کو حلال ٹھہرا لینے کا اختیار اللہ نے اپنے نبی تک کو نہیں دیا۔ یہ اللہ کا اپنا حق ہے جس کی خلاف ورزی پر اللہ نے سخت غیظ و غضب کا اظہار کیا ہے۔ کسی مجبوری کی حالت میں حرام چیز سے اپنی بھوک مٹا لینے یا حلال چیز سے درگزر کرنے کی اجازت تو اللہ نے دی ہے لیکن اسے اپنی سوچ یا عقیدے کا حصہ بنا لینا قطعی جائز نہیں ہے ۔ مگر علماء و قائدین کی طرف سے اس طرح کے مطالبوں سے یہ عام مسلمانوں کا ایک نظریہ اور جذبہ بن جاتا ہے ۔ خاص طور سے ایسی صورت میں جب کہ عقیدت مندوں کے لئے اپنے بڑوں کی باتیں وحی الٰہی سے بھی زیادہ لائق تسلیم ہو گئی ہوں۔

پھر یہ کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دیا گیا تو اس کی تعظیم و تقدیس کا فرمان بھی جاری کیا جائے گا جس طرح قومی ترانے کو کھڑے ہوکر سننے اور اس کی عظمت کو تسلیم کرنے کو ناجائز طریقے سے لازم کردیا گیا ہے ۔ توحید کے دشمن مشرکوں کے لئے یہ اتنی بڑی فتح مندی ہوگی کہ اس کے لئے وہ اپنے کاروبار اور قومی مفادات تک کو قربان کر سکتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ قومی جانور قرار دینے کے بعد گائے کے گوشت کی تجارت بند ہو جائے ۔ قانون کو کس پر نافذ کرنا ہے اور کس پر نہیں کرنا ہے یہ پوری طرح حکومت اور انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے اور ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ قانون پر کس طرح سے جانب دارانہ عمل ہو رہا ہے ۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا قانون ہونے کے باوجود ہندو دھنا سیٹھوں کو گائے بیل کاٹنے اور بیچنے کی آزادی پورے اہتمام سے ملی ہوئی ہے ۔

اس لئے اس طرح کے احمقانہ مطالبوں کے مضمرات کو سمجھئے ، اسے اپنی چترائی اور سیاسی حکمت مت سمجھئے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔