جارح کتوں کے خلاف کارروائی، مگر جارح انسانوں پر خاموشی کیوں؟

از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں جارح کتوں کو مارنے کی اجازت دی ہے۔گزشتہ نومبر میں بھی ایک فیصلہ آیا تھا جسمیں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ کتوں کو عوامی مقامات جیسے ہسپتالوں، بس اسٹینڈ، اسکولوں، ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ سے اٹھا کران کی نس بندی اور ٹیکہ کاری کے بعد آبادی سے دور لے جاک چھوڑدیاجائے۔محبان کلاب کو یہ فیصلہ منظور نہ تھا، لہذا کورٹ سے ترمیم کی گزارش کی گئی،یہ درخواست بھی اب مسترد ہوچکی ہے،سابقہ حکم کے ساتھ ساتھ کورٹ نے اب ان آوارہ کتوں کو مارنے کی بھی اجازت دی ہے۔عدالت کی طرف سے جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر آوارہ کتوں کی موجودگی خطرناک ہے،آئین ہند کے آرٹیکل ۲۱/ہر شہری کو عوامی مقامات پر جانے کا حق دیتا ہے،کئی واقعات ایسے پیش آگئے ہیں کہ ان کتوں نے بچوں، بزرگوں اور غیر ملکی مہمانوں پرحملہ کیا ہے۔انسانی زندگی کو لاحق خطرات سے نپٹنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

یہ فیصلہ قابل قبول ہی نہیں بلکہ قابل تعریف اور لائق تحسین ہے۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ عدالت نے اس پر جواز بھی پیش کیا ہے۔ورنہ بلاجواز کسی ذی روح کو مارنا یہ انسانیت نہیں ہے اور نہ کسی دھرم میں اس کہ گنجائش ہے۔مذہب اسلام میں پیاسےکتے کو محض پانی پلانے پر ایک بازاروعورت کے تمام گناہ معاف ہونے کا ذکر موجود ہے۔قرآن کریم میں کتے کا ذکر موجود ہے،اور اس کی وفاداری کی مثال ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے:اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے تھا۔(سورہ کہف )

یہ بھی پڑھیں:

کتوں کے تعلق سے فارسی زبان کی مشہور ومعروف کتاب گلستان سعدی میں شیخ سعدی شیرازی رحمہ اللہ علیہ کایہ قول ضرب المثل ہے،”پسر نوح بابداں بنشست خاندان نبوتش گم شد، سگ اصحاب کہف روزے چند پئے نیکاں گرفت مردم شد "یعنی حضرت نوح کے بیٹے نے بری صحبت اختیار کی تو اس کی وجہ سے اس سے نبوت کا خاندان چھوٹ گیا، اصحاب کہف کے کتے نے چند روز نیکوں کی صحبت اختیار کی تو آدمی بن گیا۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کتوں میں انسانی خوبیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں بشرطیکہ وہ نیک وصالح لوگوں کے بیچ بود وباش کرتا ہو۔ آدمی کے ساتھ رہنے سے کتوں کے اندر آدمیت پیدا ہونے لگتی ہے، پھر وہ کسی انسان پر حملہ نہیں کرتا،بلکہ اس کی حفاظت کا سامان بن جاتا ہے۔وہ اپنے مالک کا بہت وفاداراور اپنےمحسن کی بڑا شکرگزار ہوتا ہے۔اس کے برعکس جب وہ جارح اور آوارہ ہوتا ہے توانسانوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔انگریزی زبان میں انہیں "stray dogs” کہتے ہیں۔ یہ جھنڈ کی شکل میں رہتے ہیں،اور کمزوروں کو دیکھتے ہی حملہ کردیتے ہیں،اس کا مشاہدہ ہم نے بھی کیا ہے، اپنے گاؤں گیاری میں ان آوارہ کتوں نےفی الوقت آتنک مچا رکھا ہے۔کئی بکریاں ان کا شکار ہوچکی ہیں۔مکتب میں پڑھنے والے کئی بچوں کو اپنے دانتوں سے زخمی کیا ہے۔

کتوں میں زیادہ خطرناک قسم پاگل کتوں کی ہوتی یے،انہیں "Rabid dogs” کہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریبیز نامی خطرناک بیماری انمیں ہوتی ہے۔کسی انسان کو یہ کاٹ لیں تو بروقت علاج نہ ہونے وہ موت کے منھ میں چلا جاتا ہے۔پاگل کتوں کے منھ سے ہروقت لعاب نکلتا رہتا ہے۔مذکورہ دونوں طرح کے کتے جارح ہوتے ہیں۔اسلامی شریعت بھی انہیں ہٹانے یا ضرورت پڑنے پر مارنے کی اجازت دیتی ہے۔

شیخ سعدی رحمہ اللہ علیہ نے انسانوں سے متعلق یہ بات بھی کہی ہے کہ جب وہ برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو وہ بھی آوارہ ہوجاتا ہے۔حالیہ مشاہدہ بھی یہی کہتا ہے کہ یہ آوارگی اب کتوں ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ موجودہ وقت میں یہ آوارگی اپنے ملک کے کچھ انسانوں میں بھی پیدا ہوگئی ہے۔وہ بھی عوامی مقامات میں معصوموں پر حملہ آور ہورہے ہیں، کبھی ٹرین میں تو کبھی بس اسٹینڈ پر، کبھی پارک میں تو کبھی سڑک پر کمزوروں کونشانہ بنارہےہیں۔ابھی ضلع کشنگنج بہار کے رہنے والے مولانا توصیف رضا کو آوارہ اور جارح لوگوں کی اس جماعت نے ٹرین سے پھینک کر شہید کردیا۔دہلی کے ایان نامی لڑکا جو پارک میں کھیل رہا تھا، اسے بھی چاقو سے گود کر مارڈا۔اس نوعیت کے بے شمار واقعات آئے دن رونما ہورہے ہیں۔انسانوں کی یہ جارح اور پاگل جماعت آوارہ کتوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایسے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہ فیصلہ ایک امید کی کرن ہے،امید ہے کہ عدالت عظمی انسانی زندگی کو لاحق خطرات سے نپٹنے کے لیے اس جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرےگی،اوراس طرح کا واقعہ رونما ہونے ہوتے ہی ازخود نوٹس لیکر جامع ہدایات کے ذریعے اس پر قدغن لگائے گی۔وطن عزیز کے ہر شہری کو اس کا آئینی حق دینے کے لئے ایسا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔