مقروض مدرس مفرور تقاضے

از:- شاہد عادل قاسمی ارریہ

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے وابستہ مدرسین کی حالت آج کل ایسی ہے کہ اگر کسی سے پوچھ لیجیے: "حضرت! مزاج کیسے ہیں؟” تو جواب آتا ہے: "مزاج تو اللہ کے فضل سے بخیر ہیں بس تنخواہ ابھی تک بیمار ہے۔

کہتے ہیں نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے مگر ہمارے مدرسین نے تو پانچ ماہ سے صبر کا پورا باغیچہ ہی سجا رکھاہے لیکن اس کے باوجود بھی پھل تو دور کی بات ہے ایک پتا تک نصیب نہیں ہواہے، معلوم ہوتا ہے کہ صبر کا درخت بھی خزانۂ سرکار کی بارش کا منتظر ہے جب کہ برسات کا سیزن ہے مگر مدرسوں کا آنگن قحط سالی کا مسکن بنا ہوا ہے۔

مدرسوں کے اساتذہ کی زندگی بھی عجیب ہےصبح بچوں کو سبق دیتا ہے کہ "امانت داری، دیانت داری اور وقت کی پابندی انسان کی شان ہے” اور شام کو گھر پہنچ کر اپنے بچوں سے یہ سبق سنتا ہے: "ابا جان! راشن والا کہہ رہا تھا کہ پہلے پرانا حساب چکائیےپھر نئی کتاب کھولی جائے گی!”

ایک زمانہ تھا جب استاد کے ہاتھوں میں قلم دیکھ کر لوگ ادب سے کھڑے ہو جاتے تھے اب ہاتھ میں خالی جیب دیکھ کر دکاندار کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: "حضرت! آج بھی ادھار؟” استاد مسکرا کر جواب دیتا ہے: "جی ہاں، تنخواہ ابھی مراقبے میں ہے جب بیدار ہوگی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائے گی۔”
حکومت نے تحقیقات مکمل کر لیں، کمیٹیاں بن گئیں، رپورٹیں جمع ہوگئیں، فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک سیر و سیاحت کرتی رہیں مگر تنخواہ شاید راستہ بھول گئی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ بھی کسی سرکاری فائل کے اندر قید ہو کر سوچ رہی ہے کہ: "میں آخر کس دروازے سے باہر نکلوں؟”

یہ بھی عجیب زمانہ ہے۔ بازار میں سبزی والا نقد مانگتا ہے، دودھ والا نقد مانگتا ہے، اسکول کی فیس نقد مانگی جارہی ہے، بجلی کا بل بھی نقد مانگتا ہے مگر استاد کے پاس صرف ایک چیز وافر مقدار میں موجود ہے اور وہ ہے امید اسی امید کے سہارے وہ ہر صبح مدرسے کا دروازہ کھولتا ہے اور ہر سانس اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا دیتا ہے بھوک کی دعا بھی دربار عالی میں تھکن سے چور ہے جو مبرور ہے اور نہ مقبول ہے اب یہ زمین والوں کی طرف سے سزا ہے یامالک ارض وسمآء کی طرف سے کوئ آزمائش ہے۔

یہ ہمارا ایک دردہے جو کسی سربراہ یاکسی سسٹم پر طنز نہیں یے بلکہ ایک خاموش فریاد ہے جس میں شور فطری ہے، کیوں کہ مدرس جب معاشی پریشانیوں اور یومیہ اخراجات کی مھیا میں الجھ جاتا ہے تو اس کی فکر،اس کی توجہ اور اس کی تعلیمی یکسوئی بھی متاثر ہوجایاکرتی ہے۔

قوموں کی تعمیر کرنے والے ہاتھ اگر اپنے ہی گھر کا چولہا جلانے کے لیے خود پریشانیوں سے جھلس رہے ہوں تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔

ویسے سبھی بخوبی واقف ہیں کہ اساتذہ کے ہاتھوں میں قلم ہی اچھا لگتا ہے قرض کی پرچی یا ادھار کی پنجی نہیں،استاد کی پیشانی پر علم کا نور ہی زیب دیتا ہے فکرِ معاش کی شکنیں نہیں۔

اللہ کرے کہ وہ دن جلد آئے جب پانچ ماہ سے رکی ہوئی تنخواہیں جاری ہوں، مدرسین کے گھروں میں خوشیوں کی رونق لوٹے، اور بچوں کے چہروں پر یہ سوال نہ رہے کہ:

"ابا جان! اس مہینے بھی تنخواہ صرف وعدوں میں آئی ہے یا حقیقت میں بھی؟”

۳۰/جولائ۲۰۲۶ اساتذۂ مدارس کی فریاد پوری ریاست کی زینت رہی اب یہ زینت رحمت بن کر نازل ہوتی ہے یا زحمت کی مدت میں توسیع کرتی ہے اس کی جان کاری ذات واحد کے حوالے کئے دیتا ہوں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔