محمد علی جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر چلے گا؟

تحریر: سید سرفراز احمد

اس مضمون کے عنوان کو لکھتے وقت دل نے سوچنے پر بہت مجبور کیا اور ایک سوال بار بار دل و دماغ میں دوڑ رہا تھا کہ اس ملک میں یہ کیسا وقت آگیا کہ ایک سرکار معمولی بے ضابطگیوں کی وجہ سے نہ صرف ایک کالج بلکہ پوری یونیورسٹی کو یعنی 38 عمارتوں کو ڈھانے کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ پھر دل ہی نے جواب بھی دے دیا کہ جب آمریت کا ڈنکا بجتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کیا ہے۔ صرف وہ جو چاہتا ہے وہ کر دکھانے کا سوچتا ہے۔ لیکن ایسی آمریت کی مدت چاہے قلیل ہو یا طویل بہرحال اس کو ایک دن منہ کی کھانی پڑتی ہے۔

اتر پردیش کے شہر رام پور میں قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی آج محض ایک تعلیمی ادارے کا نام نہیں رہی۔ یہ یونیورسٹی اب قانون، سیاست، اقتدار، انتظامی کارروائی اور سیاسی انتقام کے سوالات کے بیچ کھڑی ہے۔ 38 عمارتوں پر بلڈوزر چلانے کے حکم نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کردیا ہے کہ کیا کسی تعلیمی ادارے کے خلاف قانونی بے ضابطگیوں کی کارروائی صرف قانون کے نفاذ تک محدود ہے، یا اس کے پیچھے سیاسی کشمکش بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلڈوزر کی کارروائی رک گئی ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 38 عمارتوں کو مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہدام کا حکم دیا تھا، لیکن 27 جولائی 2026 کو مرادآباد ڈویژن کے کمیشنر نے یونیورسٹی انتظامیہ کی اپیل پر اگلی سماعت تک اس حکم پر عبوری روک لگا دی۔ لہٰذا اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یونیورسٹی کی عمارتیں لازماً منہدم کردی جائیں گی۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی کا تصور محض کسی ایک عمارت یا شخص کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ اس کا نام برصغیر کے معروف مجاہدِ آزادی، صحافی اور تحریکِ خلافت کے رہنما مولانا محمد علی جوہر سے منسوب ہے۔ اس یونیورسٹی کو اتر پردیش اسمبلی کے ایک قانون کے ذریعے 2006 میں قائم کیا گیا۔ یونیورسٹی کو 30 جولائی 2012 کو تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت ملی اور 18 ستمبر 2012 کو اس کا افتتاح اس وقت کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کیا۔ اس یونیورسٹی کے روح رواں اعظم خان نے جو مشقت اور محنت کی۔ وہ کسی سے سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ اعظم خان کی شخصیت سے اس یونیورسٹی کے دفاع میں بات کرنے والوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جب کہ یہ درست رویہ نہیں ہے۔ اعظم خان کی شخصیت سے اختلاف کرنے کا حق سب کو ہے۔ لیکن ایک یونیورسٹی کو قائم کرنے میں کیا کیا صعوبتیں جھیلنی پڑتی ہے شائد یہ اعظم خان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔

جوہر یونیورسٹی کا بنیادی تصور تعلیم، فکری بیداری اور محروم طبقات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے سے جڑا ہوا تھا۔ یونیورسٹی خود اپنے مشن میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پسماندہ طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کی راہیں کھولنے کا ذکر کرتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جوہر یونیورسٹی کا نام اس کے سب سے بڑے محرک اور سرپرست اعظم خان کے نام سے گہرا جڑا ہوا ہے۔ یونیورسٹی کی اپنی تاریخ کے مطابق اعظم خان نے مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب یونیورسٹی کے قیام کے خواب کو عملی شکل دینے کے لیے جو جدوجہد کی۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہی تعلق آج اس پورے معاملے کو سیاسی رنگ دیتا ہے۔ اعظم خان اتر پردیش کی سیاست میں ایک طویل عرصے تک نمایاں شخصیت رہے ہیں۔ ان کی سیاسی حیثیت، سماج وادی پارٹی سے وابستگی اور رام پور میں ان کا مضبوط سیاسی اثر کسی سے پوشیدہ نہیں۔ چنانچہ جب ان ہی سے وابستہ ایک بڑے تعلیمی منصوبے کے خلاف انتظامی کارروائی ہوتی ہے تو یہ سوال لازماً اٹھتا ہے کہ کیا معاملہ صرف تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کا ہے یا اس کے ساتھ سیاسی دشمنی کا عنصر بھی موجود ہے؟

رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے صرف دو کے نقشوں کو منظوری حاصل تھی جبکہ باقی 38 عمارتوں کے لیے مطلوبہ منظوری موجود نہیں تھی۔ انتظامیہ نے یونیورسٹی کو خود عمارتیں ہٹانے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی، بصورت دیگر اتھارٹی کی جانب سے انہدام کی کارروائی کی بات کہی گئی۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی کے قیام کے وقت متعلقہ علاقے میں نقشوں کی منظوری کا اختیار ضلع پنچایت کے پاس تھا، اور یونیورسٹی نے دو عمارتوں کے لیے اسی نظام سے منظوری حاصل بھی کی تھی۔ بعد میں یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں آگیا۔

یعنی حکومت کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ یونیورسٹی ہونا کسی عمارت کو تعمیراتی قوانین سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ یہ مؤقف اصولی طور پر قابلِ فہم ہے۔ اگر کسی عمارت کی تعمیر قانون کے خلاف ہوئی ہو تو ریاست کو کارروائی کا حق حاصل ہے۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا 38 عمارتوں کو گرانا ہی واحد قانونی اور انتظامی راستہ ہے؟

یہاں معاملہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کے پاس قانونی کارروائی کا اپنا مؤقف ہے، جبکہ اپوزیشن اور یونیورسٹی سے وابستہ حلقے اسے سیاسی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ 24 جولائی کو سماج وادی پارٹی کے قائد حزبِ اختلاف سمیت اکیس ارکانِ اسمبلی نے یونیورسٹی میں احتجاج کیا اور انہدام کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔کانگریس نے بھی گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کارروائی سیاسی طور پر محرک ہوسکتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعظم خان سے انتقام کا سوال کیوں اٹھ رہا ہے؟ وہ اس لیئے کہ یوپی سرکار اقلیتوں خاص طور پر اعظم خان سے سیاسی انتقام کی آگ میں پوری طرح جھلسی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جب سے یوگی سرکار حکمرانی پر بیٹھی ہے تب سے اعظم خان اور ان کی فیملی کو مختلیف سازشوں کے ذریعہ اور ایسے ایسے مقدمات درج کرتے ہوۓ گرفتار کیا گیا جن کو دیکھ کر صاف سمجھ میں آجاۓ گا کہ یہ صرف اور صرف مسلم دشمنی کی آگ ہے۔رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منظور شدہ نقشوں کے بناء تعمیر کرنے کا جو الزام عائد کیا، کیا پورے رام پور میں اس وقت جتین عمارتیں تعمیر کی گئی وہ سب منظور شدہ نقشوں کے ساتھ تعمیر کی گئی؟

اعظم خان اور ریاستی حکومت کے درمیان سیاسی کشمکش کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے خلاف مختلیف مقدمات اور انتظامی کارروائیوں کا طویل سلسلہ رہا ہے۔ یہی یوگی سرکار نے سال 2021 میں اعظم خان پر یوویرسٹی کی اراضی پر قبصہ کرنے کا الزام لگا کر سیتا پور جیل بھیجا تھا۔ اور یونیورسٹی کی 170 ایکر اراضی اپنے قبضہ میں لے لی۔ جو سمٹ کر 12 ایکر تک محدود ہوگئی۔ اب جب اعظم خان سیاسی طور پر کمزور حالت میں ہیں اور جیل میں ہیں، اسی دوران ان کے سب سے بڑے منصوبے کی 38 عمارتوں کے انہدام کا حکم سامنے آنا نہ صرف سیاسی حلقوں کو سوال اٹھانے کا موقع دیتا ہے بلکہ عوام کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ یہ کاروائی قانونی پیچیدگیوں سے اوپر اعظم خان سے انتقام کی آگ ہے۔ جس کا اندازہ یوگی سرکار کے ماضی سے لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح انھیں اور ان کے افراد خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔

اگر واقعی عمارتیں غیر قانونی ہیں تو قانون کا اطلاق ہونا چاہیے، لیکن قانون کا اطلاق غیر جانب دار، شفاف اور یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کسی دوسرے طاقتور شخص یا ادارے کی اسی نوعیت کی تعمیرات برسوں تک نظرانداز ہوتی رہیں اور صرف سیاسی مخالف سے وابستہ ادارے کو نشانہ بنایا جائے تو پھر ریاستی کارروائی کے سیاسی محرکات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔اب سب سے بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یونیورسٹی کو گرانا ہی حل ہے؟ فرض کریں کہ 38 عمارتوں میں واقعی تعمیراتی منظوری کی خامیاں موجود ہیں۔ تو کیا پورے تعلیمی ڈھانچے کو منہدم کردینا ہی واحد راستہ ہے؟کیا حکومت کو یہ راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے کہ جن عمارتوں میں قانونی خامیاں ہیں ان کو تکنیکی طور پر درست کیا جاۓ۔ جہاں ممکن ہو نقشے اور اجازت نامے قانونی طریقے سے ریگولرائز کیے جائیں۔ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہونے دی جائے۔ زمین اور ملکیت کے تنازعات کا حتمی قانونی فیصلہ کیا جائے۔ اور اگر واقعی کوئی جرم ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، نہ کہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو سزا دی جائے۔ کیوں کہ کسی بھی یونیورسٹی کی عمارتیں صرف اینٹ، سمنٹ اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے اندر طلبہ کا مستقبل، اساتذہ کی روزی، خاندانوں کی امیدیں اور ایک پورے خطے کی تعلیمی ضروریات وابستہ ہوتی ہیں۔

اب آتے ہیں اہم نکتہ کی طرف کہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کا سب سے بڑا سوال اعظم خان نہیں بلکہ طلبہ ہیں۔ اعظم خان ایک سیاسی شخصیت ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات ہیں، ان کے بارے میں عدالتیں فیصلے کرسکتی ہیں، ان کی سیاست کا احتساب عوام کرسکتے ہیں۔ لیکن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم لازماً اعظم خان کی سیاست کا حصہ نہیں ہے۔ اگر کسی سیاسی شخصیت سے اختلاف ہے تو اس کا جواب سیاسی میدان میں دیا جانا چاہیے۔ اگر اس نے قانون توڑا ہے تو عدالت میں جواب دہ ہونا چاہیے۔ لیکن طلبہ کو سیاسی تنازع کا فریق بنا دینا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک نظیر ہوسکتی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی اسی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا کہ ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ لیکن یوگی سرکار کو ان طلبہ کی کیا فکر ہوگی۔ وہ تو صرف یہ دیکھ رہی ہے کہ یہ یونیورسٹی کا قیام کس نے کیا اور یونیورسٹی کس نام پر رکھی گئی۔ یہی یونیورسٹی کسی غیر مسلم مجاہد آزادی کے نام پر ہوتی اور اس کا بانی بھی کوئی غیر مسلم ہوتا تو کیا یہی یوگی سرکار اس یونیورسٹی پر بلڈوزر چلانے کا سوچتی؟

یوگی سرکار میں ہر کام قانون کی بالادستی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اور بلڈوزر راج کیا جارہا ہے۔ حالاں کہ سپریم کورٹ نے یوگی سرکار کو بار بار تنبیہ بھی کی ہے۔ لیکن پھر بھی یوگی سرکار کی آمریت جاری ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعی تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ عمارتیں قانونی اجازت کے دائرے میں تھیں یا اب انہیں قانونی شکل دی جاسکتی ہے۔ اور اگر حکومت کا دعویٰ درست ہے تو حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ کارروائی سیاسی انتقام کی طرح دکھائی نہ دے۔ کیوں کہ انصاف صرف ہونا کافی نہیں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا بھی ضروری ہے۔ مرادآباد کمیشنر کا 27 جولائی کا عبوری حکم اس لحاظ سے اہم ہے کہ فی الحال 38 عمارتوں پر بلڈوزر نہیں چل سکتا اور معاملہ کمشنر کی عدالت میں زیرِ غور ہے۔ اب اصل فیصلہ قانونی دلائل، دستاویزات، نقشوں، زمین کے ریکارڈ اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

جوہر یونیورسٹی کو بلڈوزر سے نہیں، قانون سے فیصلہ ہونا چاہیے۔ محمد علی جوہر کا نام آزادی، صحافت، قربانی اور فکری مزاحمت کی تاریخ سے وابستہ ہے۔ ان کے نام پر قائم یونیورسٹی اگر آج سیاسی انتقام، انتظامی کارروائی اور قانونی تنازعات کے درمیان کھڑی ہے تو یہ صرف ایک ادارے کا بحران نہیں بلکہ ہمارے نظامِ حکمرانی کے لیے بھی ایک سوال ہے۔ اگر 38 عمارتیں غیر قانونی ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر انہیں قانونی بنایا جاسکتا ہے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے راستہ نکالا جانا چاہیے۔
اگر زمین یا ملکیت میں جرم ثابت ہے تو ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اگر معاملہ سیاسی انتقام کا ہے تو پھر بلڈوزر انصاف کا آلہ نہیں بلکہ اقتدار کی طاقت کی علامت بن جائے گا۔ اعظم خان سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ ان کے خلاف قانونی مقدمات اپنی جگہ مگر ایک سیاسی شخصیت کا احتساب اور ایک تعلیمی ادارے کے مستقبل کو تباہ کرنا دو الگ معاملات ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جوہر یونیورسٹی کا فیصلہ سیاسی انتقام سے نہیں بلکہ قانون، شفافیت اور طلبہ کے مستقبل کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ کیوں کہ عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں، مگر ایک نسل کا تعلیمی مستقبل اگر تباہ ہوگیا تو اسے دوبارہ تعمیر کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو بھی سوچنا ہوگا کہ بلڈوزر چلانا آسان ہے، لیکن ایک تعلیمی ادارے کو بچاتے ہوئے قانون کی بالادستی قائم کرنا کہیں زیادہ بڑا امتحان ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔