از:- مفتی ناصرالدین مظاہری
قصہ صرف سکوں اور نوٹوں کا نہیں بلکہ انسان کے اختیار، اس کی آزادی اور اس کی معیشت کی باگ ڈور کا ہے۔ ایک وقت تھا جب انسان اپنی ضرورت کو اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتا تھا کہیں گندم کے بدلے کپڑا ملتا تھا، کہیں کھجور کے بدلے نمک۔ لین دین سادہ تھا، مگر اختیار مکمل تھا۔
پھر زمانہ بدلا، دھاتوں نے اپنی چمک دکھائی، سونا اور چاندی معیار بن گئے۔ درہم و دینار نے تجارت کو وقار دیا، وزن اور مقدار نے انصاف کو سہارا دیا۔ انسان کے ہاتھ میں جو سکہ تھا، وہ صرف دھات نہیں بلکہ اس کی محنت، اس کا یقین اور اس کی خودمختاری تھا۔
پھر سکہ کاغذ میں بدلا، اور کاغذ نے وعدہ کیا کہ میں تمہارے سونے کا نمائندہ ہوں۔ لوگوں نے مان لیا، بازار چل پڑا، حکومتوں نے ضمانت دی، اور کاغذی نوٹ انسان کی جیب میں اتر کر اترانے لگا۔
کہیں اس پر ایک چمکتی پٹی بھی رکھی گئی ایک علامت، ایک تحفظ؛ نہ کہ اصل مالیت، بلکہ جعل سازی سے بچاؤ کا ایک ذریعہ۔ پھر ایک اور موڑ آیا خاموش مگر فیصلہ کن۔
کاغذ اسکرین میں بدل گیا، نوٹ اعداد میں ڈھل گئے، اور جیب سے نکل کر "اکاؤنٹ” میں جا بیٹھے۔ اب نہ سکہ کھنکتا ہے، نہ نوٹ کی خوشبو آتی ہے، بس ایک اسکرین ہے اور اس پر چلتے پھرتے ، ڈوبتے ابھرتے رینگتے ہندسے۔
خرید و فروخت اب انگلی کے ایک اشارے کی محتاج ہوگئی ہے۔
لوگ کہتے ہیں: ” آسانی ہوگئی!”
مگر سوال یہ ہے: کس کی آسانی؟ اور کس قیمت پر؟
آج انسان بازار میں نہیں جاتا، بازار اس کے موبائل میں آچکا ہے۔
وہ جیب نہیں ٹٹولتا، ایپ کھولتا ہے۔ وہ سودا نہیں کرتا، “کنفرم” بٹن دباتا ہے۔
اگر کل یہی بٹن کام نہ کرے تو؟
اگر ایک لمحے میں آپ کا اکاؤنٹ منجمد ہوجائے تو؟
اگر آپ کے پاس خریدنے کو دل ہو مگر اجازت نہ ہو تو؟
کیا اس وقت بھی ہم کہیں گے کہ "سب کچھ ہمارے پاس ہے؟”
یہ وہ مقام ہے جہاں سوچنے والا ٹھٹھک جاتا ہے۔
کیونکہ اب معاملہ صرف کرنسی کا نہیں رہا، یہ اختیار کا بن چکا ہے۔
پہلے چور آپ کی جیب کاٹتا تھا، اب دجالی نظام دجل و فریب کرکے آپ کی رسائی محدود کرسکتا ہے۔
پہلے نقصان محدود تھا، اب کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوگیا ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ دنیا سہولت کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سہولت کے ساتھ انحصار بڑھ رہا ہے، اور انحصار کے ساتھ کمزوری و ناچاری پر پھیلا رہی ہے۔
اہلِ نظر اس تبدیلی کو محض ٹیکنالوجی نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک بڑے نظام کی تیاری کے طور پر دیکھتے ہیں ایسا نظام جس میں انسان کے پاس سب کچھ ہو، مگر اس کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں دل دجالی فتنہ کی طرف چونک اٹھتا ہے۔
وہ فتنہ جس میں روٹی، پانی اور وسائل بھی آزمائش بن جائیں گے؛ جہاں "دینا اور روکنا” ایک امتحان ہوگا۔
ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہی وہ نظام ہے، مگر اتنا ضرور ہے کہ اس کی بعض جہتیں اس طرف اشارہ کرتی محسوس ہوتی ہیں۔
تو پھر کیا کیا جائے؟
کیا سب کچھ چھوڑ دیا جائے؟
کیا زمانے سے کٹ کر بیٹھ جائیں؟
نہیں! ہرگز نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ:
انسان اپنی جیب کو بالکل خالی نہ کرے نقد کو مکمل طور پر ترک نہ کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے اختیار کا شعور زندہ رکھے کیونکہ اصل دولت صرف پیسہ نہیں، اختیار ہے۔ اور اصل فقر صرف خالی جیب نہیں، بے اختیار ہونا ہے۔
آج وقت ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ:
"جیب میں رکھا ہوا تھوڑا سا نوٹ، کبھی کبھی اسکرین پر نظر آنے والے ہزاروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے”
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پیسہ کہاں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اختیار کہاں ہے۔
جس دن اختیار ہاتھ سے نکل گیا،
اس دن دولت کے انبار بھی انسان کو بے بس کردیں گے۔
سوچئے! سمجھئے! اور اپنے اختیار کو پہچانئے! شریعت اسلامی پہلے دن سے اپنی کرنسی کو اپنے قبضہ میں رکھنے اور رہنے کا مشورہ دیتی رہی ہے اور کچھ بھی کہہ لو وقت آئے گا کہ لوگ "مال متقوم” کی شرعی تعبیر کی تشریح سمجھیں گے ضرور۔۔۔۔