بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

از:- محمد حفیظ الدین

سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر سوسائٹی

مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (SIR) نے جمہوری عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں اقلیتی، بالخصوص مسلم برادری کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف انتخابی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ آئینی حقوق کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

اعداد و شمار کے تجزیے سے جو تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ نندی گرام جیسے حساس حلقے میں، جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے، ضمنی فہرستوں میں حذف شدہ ووٹروں میں سے 95.5 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے ہونا محض اتفاق معلوم نہیں ہوتا، بلکہ ایک منظم اور جانب دارانہ عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں انتخابی فہرستیں وہ بنیادی دستاویز ہوتی ہیں جو شہریوں کے حقِ رائے دہی کی ضمانت دیتی ہیں، لیکن جب انہی فہرستوں کو متعصبانہ انداز میں ترتیب دیا جائے تو پورا انتخابی عمل اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک حلقے تک محدود نہیں بلکہ ریاست بھر میں اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کیا گیا ہے، جن میں بڑی تعداد اقلیتی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ خاص طور پر مرشد آباد جیسے مسلم اکثریتی ضلع میں سب سے زیادہ ناموں کے حذف ہونے نے اس شبہے کو مزید تقویت دی ہے کہ یہ عمل محض تکنیکی یا انتظامی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

اسی تناظر میں ضلع اتر دیناج پور کی صورتحال بھی کم تشویشناک نہیں ہے۔ اگر صرف ایک اسمبلی حلقے اسلام پور کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق اسلام پور سب ڈویژن میں کل ابتدائی ووٹرز کی تعداد 8,47,352 تھی، جس کے بعد نظرِ ثانی کے عمل میں 3,34,344 معاملات (adjudication) کے لیے لیے گئے۔ ان میں سے 2,13,759 کو قبول کیا گیا، جبکہ 1,19,840 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ مجموعی طور پر 3,33,599 معاملات نمٹائے گئے، جبکہ 745 ابھی بھی زیر التوا ہیں۔ اس پورے عمل کے بعد کل ووٹروں کی تعداد 10,61,111 بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نظرِ ثانی کا عمل غیر معمولی حد تک مسلمانوں کو نشانہ بنا کرانجام دیا گیا۔

اگر ہم مقامی سطح پر گنجریا گرام پنچایت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو صورتحال مزید سنگین نظر آتی ہے۔ مختلف پارٹ نمبروں میں حذف شدہ ووٹروں کی تفصیل اس طرح ہے: پارٹ نمبر 181 میں 221 ووٹرز کو حذف کیا گیا جبکہ 767 فعال ہیں؛ پارٹ نمبر 182 میں 91 حذف اور 439 فعال؛ پارٹ نمبر 183 میں 170 حذف اور 718 فعال؛ پارٹ نمبر 184 میں 89 حذف اور 702 فعال؛ اور پارٹ نمبر 185 میں 168 ووٹرز کو حذف کیا گیا جبکہ 683 ووٹرز فعال ہیں۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی گرام پنچایت کے اندر سینکڑوں ووٹرز کو فہرستوں سے خارج کیا گیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نظرِ ثانی کا عمل نچلی سطح تک کس شدت کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

یہ مقامی اور ریاستی سطح کے اعداد و شمار مل کر ایک بڑی تصویر پیش کرتے ہیں، جس میں انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے نام پر بڑے پیمانے پر اخراج کا عمل جاری دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مسلم آبادی نمایاں ہے، وہاں اس طرح کی کارروائیاں جمہوری شمولیت کے بجائے سیاسی محرومی کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عوامی نمائندگی کے توازن کو بھی بگاڑ سکتی ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ ہے جو عدالتی مداخلت کے بعد سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے امیدوار مہتاب شیخ کے نام کی بحالی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے عمل میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ جب الیکشن کمیشن کسی امیدوار کے نام کو حذف کرنے کی معقول وجہ پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچتا ہے۔

مزید برآں، لاکھوں کی تعدادووٹروں کو مکمل طور پر خارج کر دینا ایک ایسا قدم ہے جو جمہوری حقوق کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ووٹ دینا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، اور اس حق سے محرومی دراصل اس کی سیاسی شناخت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ جب کسی مخصوص برادری کو بڑے پیمانے پر اس حق سے محروم کیا جائے تو یہ عمل نہ صرف غیر جمہوری بلکہ امتیازی بھی قرار پاتا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس پورے عمل کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن ہی اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا یہ نام واقعی تکنیکی وجوہات کی بنا پر حذف کیے گئے یا اس کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ کارفرما تھا۔ اس کے ساتھ ہی ضروری ہے کہ پولنگ سے قبل تمام اہل ووٹروں کے نام دوبارہ بحال کیے جائیں تاکہ کوئی بھی شہری اپنے آئینی حق سے محروم نہ رہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے آئینی ادارے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف شفافیت کو یقینی بنائے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرے۔

اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو سماجی اور سیاسی ہم آہنگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب کسی مخصوص برادری کو یہ محسوس ہو کہ اسے منظم طریقے سے سیاسی عمل سے باہر کیا جا رہا ہے تو اس کے نتیجے میں بے چینی اور عدم اعتماد پیدا ہونا فطری ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف جمہوریت بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام جمہوری قوتیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کے حل کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی اس خصوصی نظرِ ثانی نے جمہوری اقدار کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم آزمائش پیدا کر دی ہے۔ اگر اس معاملے کو بروقت اور منصفانہ طریقے سے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف موجودہ انتخابات بلکہ مستقبل کے جمہوری عمل پر بھی مرتب ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ شفافیت، انصاف اور برابری کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے اور ہر شہری کو بلا تفریق اس کے ووٹ کے حق کی مکمل ضمانت دی جائے۔ یہی ایک مضبوط اور حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔