غربت سے عروج تک: ثاقب حسین کی شاندار کارکردگی نے سب کو متاثر کر دیا

گوپال گنج/بہار:

"میں جوتے خریدوں گا تو کھاؤں گا کیا؟ یا جوتے لے لوں یا گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا سکوں…” یہ الفاظ نوجوان کرکٹر ثاقب حسین کی زندگی کی اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں غربت ہر قدم پر رکاوٹ بنی رہی۔

ثاقب حسین کا تعلق ایک نہایت غریب کسان خاندان سے ہے، جہاں بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی ایک مشکل مرحلہ تھی۔ مالی تنگی کے باعث تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ تھا، جس کے سبب اس نے ہندوستانی فوج میں شمولیت کا خواب دیکھا تاکہ روزگار کا کوئی ذریعہ حاصل ہو سکے۔

تاہم حالات نے اس کا رخ کھیل کے میدان کی جانب موڑ دیا۔ غیر معمولی جسمانی فٹنس اور عزم کے ساتھ اس نے مسلسل محنت جاری رکھی۔ اس کے دوستوں نے اس کی صلاحیتوں کو پہچانا اور اسے کرکٹ کی طرف راغب کیا۔

وسائل کی شدید کمی کے باوجود ثاقب نے ہمت نہیں ہاری۔ کھیل کے جوتے خریدنا بھی اس کے لیے ممکن نہ تھا، لیکن دوستوں اور گاؤں کے لوگوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ یوں وہ صرف اپنے خاندان ہی نہیں بلکہ پورے گاؤں اور ضلع گوپال گنج کی امید بن گیا۔

حال ہی میں ثاقب حسین نے ایک میچ میں راجستھان رائلز کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس دوران اس کی گیند بازی کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رہی، جس نے ماہرین اور شائقین کو متاثر کیا۔

ثاقب حسین کی یہ کامیابی محض ایک کھلاڑی کی ذاتی فتح نہیں، بلکہ غربت، قربانی، اجتماعی تعاون اور مسلسل جدوجہد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جو نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام دیتی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔