از:- ( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی
ہندوستان جمہوری ملک ہے، یہاں ووٹ کے ذریعے حکومت سازی ہوتی ہے ، جس پارٹی یا جس اتحاد کو اکثریت حاصل ہوتی ہے ، اسی کی حکومت بنتی ہے
موجودہ وقت میں ہندوستان میں کئی قومیں رہتی ہیں ، ہندو ، مسلم ،سکھ اور عیسائی ، ان کے علاؤہ بھی دوسری قومی ہیں ، ابادی کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہندو ہیں ، پھر مسلم ، پھر سکھ ، پھر عیسائی ، پھر دیگر مذہبی اکائی ، الیکشن کے موقع پر مسلمانوں کے مقابلے میں بقیہ دیگر مذہبی اکائیوں کو بھی ہندو ہی شمار کیا جاتا ہے ، اس طرح مسلمانوں کی ابادی کا تناسب تقریباً 18/ فیصد ہے تو برادران وطن ہندو کی ابادی کا تناسب تقریباً 82 / فیصد ہو جاتا ہے۔
ہندوستان ایک کثیر المذہب ملک ہے، اس میں کئی مذہب کے ماننے والے رہتے ہیں ، ان میں سے ہندو ، مسلم ، سکھ اور عیسائی چار اہم مذاہبِ ہیں ، ہر ایک کے اپنے اپنے دھرم اور مذہب کے اصول و ضوابط ہیں ، ہر ایک کے الگ الگ رسم و رواج ہیں ، جس کے مطابق وہ زندگی گذارتے ہیں ، کوئی اپنے دھرم اور مذہب میں مداخلت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، ہندوستان میں سبھی دھرم اور مذہب کے ماننے والے ہمیشہ سے آزادی کے ساتھ اپنے دھرم اور مذہب پر عمل کرتے آئے ہیں ، ملک کی آزادی کے بعد یہاں آئین کی حکومت بنی تو آئین میں ہر مذہبی اکائی کو مذہبی آزادی کا حق دیا گیا اور اس کو بنیادی حقوق میں شامل کیا گیا۔
ہندوستان میں کئی صدی سے مختلف مذاہبِ کے ماننے والے بستے آرہے ہیں ، سبھی آپسی میل و محبت سے رہتے آرہے ہیں ، کبھی کسی قسم کی نفرت یا بھید بھاؤ کی بات دیکھنے میں نہیں آئی ، مگر موجودہ وقت میں ملک میں نفرت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ، اقلیت اور اکثریت کا مسئلہ کھڑا کر دیا گیا ہے ، جو نہایت ہی افسوس کی بات ہے۔
ہندوستان کی تقسیم کے بعد اس ملک میں مسلمان نہایت ہی اقلیت میں آگئے ، ان کی تعداد اتنی کم ہوگئی کہن اپنی پارٹی اور حصہ داری کیا ، مسلم قائدین آزادی کو اس ملک میں تحفظ کی فکر ستانے لگی ، اسی کے نتیجے میں وہ ملک میں جمہوریت اور آئین کی حکمرانی پر زور دیتے رہے ، بالآخر وہ اس میں کامیاب ہوئے ، اور ملک کی آزادی کے بعد یہاں جمہوریت اور آئین کی حکومت قائم ہوئی ، اس طرح انہوں نے اطمینان محسوس کیا ، اور انہوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے تحفظات کے لئے برادران وطن کے ساتھ میل جول اور قومی یک جہتی کا ماحول بنائیں ، تاکہ وہ شرور و فتن سے محفوظ رہیں۔
موجودہ وقت کے تناظر میں ہندوستان کی آزادی میں حصہ لینے والے اکابر علماء اور دانشوران کی رائے کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کی رائے بالکل صحیح تھی اور ابھی بھی اسی کی معنویت برقرار ہے ، اس لئے کہ اگر ہندو اور مسلمان کے درمیان کسی بھی سطح پر مقابلے کی بات ہوگی ، تو چونکہ مسلمان تعداد میں بالکل کم ہیں ، اس لئے مسلمان ہار جائیں گے اور جو اکثریت میں ہے ، اس کو جیت حاصل ہو جائے گی ، اس کا برا نتیجہ سامنے آئے گا کہ آپس میں نفرت اور دشمنی بڑھ جائے گی ، اور اقلیت والے کا سخت نقصان ہوگا ، یہی دیکھنے میں آرہا ہے۔
جہاں تک سیاست کی بات ہے تو تجربہ اور تجزیہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہندوستان جیسے مسلم اقلیت والے ملک میں نہ تو ہندو اور مسلمان کی بات صحیح ہے اور نہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے حق میں ہے ، اس لئے کہ موجودہ وقت میں نفرت کی سیاست جاری ہے ، مسلمان امیدوار کسی بھی پارٹی سے کھڑا ہوتا ہے ، تب بھی اس کو مسلمان ہی ووٹ دیتے ہیں ، دوسرے لوگ بہت کم ووٹ دیتے ہیں ، جس کی وہ سے مسلم امیدوار ہار جاتے ہیں ، جہانتک مسلم پارٹی کی بات ہے تو اس کا نام ہی سن کر بہت سے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں ، کیونکہ ہندو مسلم کی بات سے مسلمان اپنا نقصان دیکھتے ہیں ، اس لئے مسلم سماج کے لوگ بھی مسلم پارٹی سے نہیں جڑتے ہیں ، اس کی وجہ سے مسلم پارٹی جیتنے کے بجائے مسلم ووٹ کو منتشر کرنے کا کام کرتی ہے ، بہت سی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کو منتشر کرنے کے لئے مسلم امیدوار کے خلاف کئی مسلم امیدوار کو کھڑا کردیا جاتا ہے ، ایسے امیدوار بھی مسلم ووٹ کو کاٹ کر اس پارٹی کی جیت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں ، جس کو لوگ پسند نہیں کرتے ہیں ، ایسا ہر الیکشن میں ہوتا ہے ، بہار کے الیکشن کا نتیجہ سامنے ہے ، جو کبھی نہیں ہوا ، وہ ہوگیا ، صرف پارٹی ہی نہیں جیتی ، بلکہ حکومت ہی بدل گئی ، تجزیہ نگاروں کے مطابق اس میں اپنی سیاست اور اپنی قیادت اور اپنی سیاسی پارٹی کا بھی اہم رول ہے۔
ویسے آپ خود بھی حساب کر کے دیکھ لیں ، مسلمانوں کی ابادی 18/ فیصد ہے ، عام طور پر آدھا ووٹ پول ہوتا ہے ، تو 9/ فیصد ووٹ پول ہوگا ، مسلمانوں کی صد فی صد پولنگ مان لیں تو 9/ فیصد ووٹ آئے گا ، چونکہ مسلمان کے علاؤہ کوئی دوسرا ووٹ دے گا نہیں ، تو مسلم امیدوار یا مسلم پارٹی کو کل 9/ فیصد ووٹ حاصل ہوگا ، 9/ فیصد ووٹ سے جیت نہیں ہوتی ہے ، جیت کم سے کم 35/ فیصد ووٹ سے ہوتی ہے ، اس طرح مسلم پارٹی اور مسلم کے نام پر ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے پارٹی بھی ہار جاتی ہے اور مسلم امیدوار بھی ، یہ تو ایک بات ہوئی ، جہاں تک نقصان کی بات ہے تو اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کے بکھراؤ سے دوسرے ایسے امیدوار یا پارٹی جیت جاتی ہے ، جس کو لوگ پسند نہیں کرتے ہیں۔
ابھی بنگال کا الیکشن قریب ہے ، وہاں بھی ہندو مسلم اور اپنی پارٹی اپنی قیادت کا کھیل شروع ہے ، یہ کھیل کسی کے لئے مفید نہیں ہے ، نہ ہندو کے لئے ، نہ مسلمان کے لئے اور نہ ملک کے لئے ، اس لئے بنگال کے ووٹروں بالخصوص مسلم ووٹروں اور مسلم علماء و دانشوروں سے اپیل ہے کہ وہ ووٹروں میں بیداری پیدا کریں کہ وہ بہار سے سبق حاصل کریں ، اور دھرم و مذہب اور ذات و برادری کے نام پر ووٹ دینے سے بچیں ، اس کے مقابلے میں ووٹ ایسے امیدوار کو دے کر کامیاب بنائیں جو صاف ستھرے شبیہ کا ہو ، نفرت سے دور ہو ، بغیر فرق سب کے لئے فائدہ مند ہو ، خواہ ہندو ہو یا مسلمان ، سکھ ہو یا عیسائی ، اسی میں بہتری ہے ، ایسے امیدوار کو ووٹ نہ دیں جو نفرت کی سیاست کرتا ہو ، لوگوں کے درمیان بھید بھاؤ کرتا ہو ، وہ سماج میں داغ دار ہو ، آپ کا ووٹ قیمتی ہے ، اس کی قدر کریں ، اور پولنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، اللہ تعالیٰ شر اور فتنہ سے حفاظت فرمائے ۔ جزاکم اللہ خیرا