پالیکیلے: آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم کی قیادت ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ کپتان سلمان علی آغا سے پریس کانفرنس کے دوران ٹیم کی شکست اور کپتانی کے حوالے سے سخت سوالات کیے گئے۔
پاکستان نے سپر ایٹ مرحلے میں سری لنکا کے خلاف میچ تو جیت لیا، تاہم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرسکا۔ صورتحال یہ تھی کہ اگر پاکستان سری لنکا کو 147 رنز یا اس سے کم اسکور تک محدود رکھتا تو سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا تھا، مگر سری لنکن ٹیم نے 207 رنز بنا کر پاکستان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان سلمان علی آغا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بطور کپتان ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود عہدہ چھوڑ دیں گے یا پھر پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے جذبات میں نہیں کیے جاتے۔ ٹیم وطن واپسی کے بعد دو روز تک غور و فکر کرے گی اور پھر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ہیڈ کوچ مائک ہیسن ٹیم کے فیصلوں پر زیادہ اثر انداز ہیں اور کیا سلمان علی آغا محض ’’ڈمی کپتان‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں؟ اس پر سلمان علی آغا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جاتے ہیں اور کسی ایک فرد کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سابق کپتان بابر اعظم کو اس ورلڈ کپ میں مختلف کردار دیا گیا تھا۔ انہیں مڈل آرڈر میں استحکام فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی تاکہ بیٹنگ لائن اپ کسی ممکنہ دباؤ یا اچانک وکٹوں کے نقصان سے محفوظ رہ سکے۔
واضح رہے کہ اس ٹورنامنٹ میں سلمان علی آغا کی ذاتی کارکردگی بھی خاطر خواہ نہیں رہی۔ انہوں نے چھ اننگز میں صرف 60 رنز اسکور کیے، جس کے بعد سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کی جانب سے ٹیم کی حکمت عملی اور قیادت دونوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ میں اس ناکامی کے بعد کیا تبدیلیاں سامنے آتی ہیں۔