تحریر : مسعود جاوید
ایران پر جب حملے شروع ہوئے تو اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جانے لگی صہیونیت و مسیحیت بنام اسلام ! یورپ و امریکہ کا ایک مذہب، ایک کلچر اور ایک زبان ہے اس لئے ہمیں متحد ہو کر اسلام کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے بعد میں اس میں ترمیم کی گئی کہ ہم متشدد شیعہ اسلام کو برداشت نہیں کرسکتے ! ۔
حالیہ جنگ کے تناظر میں برصغیر ہند یعنی ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش کے بہت سارے لوگ اسے شیعہ سنی اور حد تو جب ہو گئی جب مسلمانوں کے بعض حلقوں میں اسے سلفی وغیر سلفی عینک سے دیکھا جانے لگا اور سوشل میڈیا پر تاریخ و جغرافیہ کے حوالے سے حق اور باطل پر مباحثے شروع ہو گئے ۔ ان مباحثوں میں مہذب طریقۂ بحث یعنی ” احترام الرائ و الرائى الاخر کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ۔ (احترام الرأي والرأي الآخر هو قيمة إنسانية وحضارية أساسية، تعني تقبل الاختلاف في وجهات النظر بإنصاف وموضوعية دون تعصب أو تجريح شخصي. یعنی آپ دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے رکھیں بغیر کسی تعصب اور جانبداری کے اس طرح موضوعی ( آبجییکٹیو ) طور پر۔ ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ کئے بغیر ۔ ایسی کوئی بات کا حوالہ دیئے بغیر جس سے مخالف فریق کی ذات مجروح ہو۔ )
اس وقت بھی میں نے لکھا تھا کہ ہمیں آپس میں سوشل میڈیا پر دست و گریباں ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ دو ملکوں یا ملکوں کے اتحادیوں کے مابین جنگ مذہب ، مسلک اور عقیدہ کی وجہ سے نہیں ان ملکوں کے سرحدی تنازعہ بزور طاقت حل کرنے یا اقتصادی اور مالی مفادات کی برآوری کے لیے ہوتی ہے اس میں ہم بحیثیت آزاد اور مہذب انسان حق کے طرفدار بنیں اور ظالم و غاصب کی مذمت کریں۔
حق پر کون ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا ؟ ظاہر ہے اس کے قوانین و دساتیر ہیں ۔ہر سماج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان میں آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں کبھی مزاج میں تنوع اور پسند نا پسند ، حرص و ہوس تو کبھی حسد کی وجہ سے۔ اس سے کوئی گھر ، سماج یا ملک محفوظ نہیں اس لیے کہ یہ انسانی فطرت ہے ۔ تو جس طرح ہر گھر میں ایک گارجین ہوتا ہے جو کنبہ کے افراد کے لیے کچھ اصول مقرر کرتا ہے جس کی پابندی ہر فرد پر لازم ہوتی ہے اور عدم لزوم کی صورت میں آپس میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اس کرہ ارضی پر ١٩٣ ملک ہیں جن پر مشتمل تنظیم کو اقوام متحدہ کہا جاتا ہے ۔ موٹے موٹے اصولوں پر مبنی اس کا اپنا ایک چارٹر( میثاق ) ہے جس پر ہر ملک نے دستخط کر کے اس کو ماننے کا عہد کیا ہے۔
( کل ١٩٥ جن میں ایک مرجع عیسائیت ویٹیکان سیٹی ہے اور دوسرا فلسطین ہے یہ دونوں بحیثیت آبزرور اقوام متحدہ میں شامل ہوتے ہیں)
اقوام متحدہ کے مقررہ اصول و ضوابط نے یہ طے کر دیا ہے کہ کسی بھی رکن ملک کی آزادی ، خود مختاری اور سالمیت کو دوسرا ملک نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کسی ملک میں داخلی خلفشار ہو یا خانہ جنگی ہو اس کی مدد کے لئے کوئی ملک از خود شریک نہیں ہوگا اور اس وقت تک اس کی فوج یا لڑاکو شہری اس ملک میں بھیجے گا جب تک کہ اقوام متحدہ اسے متعین نہ کرے۔ بالفاظ دیگر دوسروں کے داخلی معاملے میں کسی بھی ملک کو داروغہ کا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تو پھر یہ "ریجیم چینج” کے نام پر جو کچھ شروع کیا گیا ہے کیا یہ اس چارٹر کی صریح خلاف ورزی نہیں ہے ! کیا اسے اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ظاہر ہے نہیں۔ کس ملک میں کون حکمران کون صدر کون وزیر اعظم کون روحانی پیشوا ہوگا اس کا فیصلہ یا انتخاب اس ملک کی عوام کرے گی نہ کہ کوئی دوسرا ملک یا اس کا صدر۔
دو ملکوں کے درمیان جنگ یا اختلاف کی صورت میں جہاں تک مذہب ، مسلک اور عقیدہ کے نام پر ہمارے جانبدار ہونے کی بات ہے تو اس بھرم سے جتنی جلد ہم اپنا ذہن صاف کرلیں ہماری صحت کے لیے بہتر ہوگا ۔ ہر ملک کا اپنی سرحدوں کی حفاظت اور داخلی امن و امان برقرار رکھنا اولین فریضہ ہوتا ہے ۔ اس لئے آپ کے دینی بھائی ہونے کی وجہ سے کوئی مسلم ملک آپ کو پناہ نہیں دے گا ۔
دوسری بات یہ کہ ان دنوں نام سے بھرم پھیلانے یا پرکشش بنانے کا رواج بھی عروج پر ہے۔ حالانکہ” اسلامی ” سوپر مارکٹ میں بھی وہی چیزیں ملتی ہیں جو نعیم اسٹور اور شرما بھنڈار میں ملتی ہیں ۔ اس لئے نام پڑھ کر بہت زیادہ خوش فہمی یا جوش و خروش کا مظاہرہ نہ کریں۔ جہاں حق اور حلال ملے اسے اپنائیں۔ نام پر اپنا خون نہ جلائیں اور خون جلانے کا شوق ہے تو باریک بینی سے ” اسلامی” جمہوریہ پاکستان اور ” اسلامی” ریاست افغانستان کے درمیان حالیہ حملے کی خبریں پڑھ لیں کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور بالخصوص آخری عشرہ کے آخری دنوں میں کس طرح دو "سنی اسلامی” ملک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں ۔ خبر کے مطابق کل افغانستان ک دار الحکومت کابل میں ایک ہسپتال پر پاکستان نے فضائی حملہ کیا جس میں چار سو افغان ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی
یہ میری ان تحریروں کی تصدیق ہے جو میں برسوں سے لکھتا رہا ہوں کہ اسلامی اخوت وغیرہ کے حصار سے باہر نکلیں۔
ہم اور آپ ایک آزاد ملک کے آزاد اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنے حدود میں رہیں خواہ مخواہ کا جوش و خروش سے احتراز کریں۔ ہاں حق بجانب رہیں ۔ ظالموں کے حق میں بد دعا اور مظلوموں کے لئے دعائے خیر کریں ۔ ظلم کو طاقت سے نہیں روک سکتے تو زبان و قلم سے روکیں وہ بھی نہیں کر سکتے تو ظلم کو برا سمجھیں ظالم کی پسپائی کے متمنی ہوں اور اضعف الایمان یہ کہ ہم حق بجانب فریق کے لئے دعا کریں کہ اللہ ان کو سرخرو کرے۔