ڈی پورٹیشن پالیسی پر ہنگامہ: آسام NRC کے پس منظر میں مسلمانوں کی شہریت پر نئے سوالات

نئی دہلی: نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی مجوزہ نئی ملک بدری (ڈی پورٹیشن) پالیسی پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے تحت خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے، جبکہ حکومت اسے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکومت کی نئی حکمت عملی کے تحت ایسے افراد کی شناخت کی جائے گی جن کے پاس شہریت کے دستاویزات مکمل نہیں ہیں، اور تصدیق کے بعد انہیں حراستی مراکز میں رکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد ملک بدری کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس عمل میں ضلعی حکام کو اہم اختیارات دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔

آسام NRC کا تجربہ کیوں اہم؟

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کا تجربہ آسام میں پہلے ہی متنازع رہا ہے۔ 2019 میں جاری ہونے والی NRC کی حتمی فہرست سے تقریباً 19 لاکھ افراد کے نام خارج ہو گئے تھے، جن میں بڑی تعداد بنگالی نژاد مسلمانوں کی تھی۔

ماہرین کے مطابق NRC کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت تھا، مگر اس عمل میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی متاثر ہوئے جو خود کو بھارتی شہری ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

مسلمانوں کے حوالے سے خدشات

ناقدین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی، NRC اور شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے سکتی ہے جس میں غیر مسلم افراد کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے، جبکہ مسلمان زیادہ خطرے میں آ جائیں۔

آسام میں پہلے بھی بے دخلی مہمات اور NRC کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی رہی ہے۔

سیاسی ردعمل

حکومت کے حامی حلقے اس پالیسی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ اپوزیشن اور ناقدین اسے امتیازی اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی ماڈل پورے ملک میں نافذ کیا گیا تو اس کے سنگین سماجی اور سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔