مسلمانوں کی بدلتی سنگین حالت

از:- عبدالحمید نعمانی

مسلمانوں کے تعلق سے ملک میں جس طرح کی صورت حال پیدا ہوتی جا رہی ہے، اس حوالے سے کئی سارے نکات پر سنجیدہ غور و فکر کر کے اسے عملی جامہ پہنانے کی بڑی ضرورت ہے، اس میں بہتر تبدیلی، اپنی قیادت اور وزیر اعلی، وزیراعظم بنانے اور نعرہ تکبیر لگا کر ہندوتو وادی طاقتوں کو جگانے سے نہیں آ سکتی ہے، جو کچھ سامنے آ رہا ہے وہ ایک بڑی تعداد کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے، مالیگاؤں بم دھماکے کے الزامات میں ماخوذ افراد، بری ہو کر ایم پی، اور بریگیڈیئر بن رہے ہیں، بم دھماکے میں بہت سے لوگ شہید اور زخمی ہوئے تھے، جب واقعہ ہوا تھا تو ظاہر ہے اس کے انجام دینے والے تو یقینا تھے، یہ نہیں تو وہ، ہیمنت کرکرے کی کوششوں سے ابتداء میں لگا تھا کہ دھماکے کے پیچھے کار فرما مقاصد، ہندو راشٹر کے قیام وغیرہ سے پردہ اٹھ کر ہندوتو وادی گروہ، کیفرکردار تک پہنچے گا لیکن اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا ہے، گزشتہ دنوں ایس ایم مشرف نے کئی حیرت انگیز معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے، ہیمنت کرکرے کے مارے جانے کے علاوہ کئی قابل توجہ باتوں کو سامنے لانے کا کام تھا لیکن وہ زیر بحث و عمل نہیں آ سکیں، ایس ایم مشرف کوئی عام قسم کے آدمی نہیں ہیں بلکہ سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس مہاراشٹر ہیں، ملک میں برہمن وادی عناصر اس قدر مضبوط و اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ ان کے لیے کسی معاملے کو ادھر ادھر کر دینا کوئی مشکل نہیں ہے، ان کے مقاصد سے وابستہ طاقتوں کو مین اسٹریم سے الگ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، وہ سیکولر پارٹیوں تک میں اپنی مضبوط پیٹھ بنائے ہوئے ہیں، ان کے کئی سارے لیڈر خصوصا دلت، او بی سی کی ایک تعداد برہمن وادی طاقتوں اور آر ایس ایس اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کے خلاف مزاحمت و مقابلہ کرتی نظر آتی ہے، اس سے ہندو راشٹر اور اس میں منو سمرتی کے نظام حیات کو نافذ کرنے کے خواہاں عناصر نے حد سے زیادہ جارح و مشتعل ہو کر اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں، اب وہ ڈاکٹر امبیڈکر اور ان کی دلت تحریک کو ہر ممکن طریقے سے ختم کرنے کا اعلانیہ عندیہ دینے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے ہیں، ساتھ ہی اسلام اور مسلمانوں کو ختم یا کم از کم غیر موثر و محکوم بنانے کی راہ پر برسوں سے گامزن ہیں۔

حالاں کہ یہ فکر و عمل بھارت کی متنوع روایات و افکار کے سراسر خلاف ہے، برہمن وادی ہندوتو عناصر کو تقدیس و تحقیر پر مبنی چار طبقاتی نظام اور خود کو پاک و اعلی اور محنت کشوں کو ناپاک و پست تر سمجھ کر، اپنے ماتحت رکھ کر خدمت کرانے کی بہت زیادہ بھاتی اور اپیل کرتی ہے، یہ تو برہمن وادی اکثریتی سماج کے دائرے کا معاملہ ہے، جہاں تک دائرے سے باہر کے مذاہب اور ان کے ماننے والے خصوصا اسلام اور مسلمان، عیسائیت و عیسائی کمیونٹی کا معاملہ ہے تو وہ تو پوری طرح اچھوت اور دیس نکالا کے قابل ہیں، اس کا وہ اعلان و اظہار بھی مختلف مواقع و اوقات میں کھلے عام کرتے بھی رہتے ہیں، یہ ذہنیت بھارت کی عام ذہنیت نہیں ہے بلکہ یہ صرف تفوق پسند، تمام تر وسائل حیات پر قبضہ کرکے پر تعیش زندگی گزارنے والے برہمن وادی گروہ کی ذہنیت ہے، اس ذہنیت کے خلاف کئی سطحوں پر کسی نہ کسی درجے میں مزاحمت ہو رہی ہے، تاہم یہ مزاحمت کوئی زیادہ موثر نہیں ہے، محنت کش دانش وروں اور مصنفین کی طرف سے لٹریچر کی سطح پر تو مزاحمت بہت حد تک برابر سرابر کی ہے لیکن دیگر شعبہ ہائے حیات خصوصا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سیاسی و معاشی میدانوں میں نمائندگی، قطعی غیر موثر ہے، ان کو تو عموما ٹی وی چینلز پر بلایا بھی نہیں جاتا ہے، ایک بار ہم نے ایک چینل سے بلانے کے لیے کہا تھا تو کہا گڑ بڑ ہو جائے گا، اینکر سے لے کر پالیسی ساز اور فیصلہ کن جگہوں پر ایک ہی ذہنیت کے افراد مضبوط پکڑ بنائے ہوئے ہیں۔

اسی تناظر میں ڈاکٹر امبیڈکر نے ذرائع ابلاغ کی اہمیت بتاتے ہوئے ان کے بہتر استعمال کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، مبینہ نیشنل میڈیا میں تو نہیں لیکن سوشل میڈیا سے کسی درجے میں دلتوں، آدی واسیوں اور اقلیتوں کے متعلق کچھ باتیں اور آوازیں سماج کے سامنے آ جاتی ہیں، مبینہ نیشنل میڈیا تو بڑی سے بڑی ضروری پبلک سروکار والی خبروں کو بھی جگہ و توجہ نہیں دیتا ہے، جب کہ بہت ہی کم تر، فرقہ وارانہ تفریق و تقسیم پیدا کرنے والی خبروں کو، بہت ہی نمایاں طور سے نمک مرچ لگا کر، گرما گرم انداز میں ایسے طور سے پیش کیا جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک و قوم کے مفاد میں ان کو سامنے لانا بہت ضروری ہے، گایوں کے اسمگلنگ، مندر مسجد میں گائے، خنزیر کا گوشت ڈالنے اور اشتعال انگیز نعرے لکھنے لگانے میں غیر مسلم کے ملوث پائے جانے کے بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں، لیکن ان کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جیسے ہی کچھ ایمان دار پولیس والوں کی طرف سے انکشاف کیا جاتا ہے کہ واردات کو انجام دینے والے مسلمان نہیں ہیں، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، ہندو رکشا دل والے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، ان کو گائے، گنگا کے تقدس اوربھارت کے وقار اور تحفظ و سلامتی سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے، صرف کسی واقعہ کے فرقہ وارانہ پہلوؤں سے دلچسپی ہوتی ہے تاکہ ان کا استعمال و استحصال کر کے نفع بخش کاروبار چلایا جا سکے، وہ بسا اوقات ہندو، ہندوتو کے نام پر محنت کش طبقات کے کچھ افراد کو بھی اپنے ساتھ جوڑ لیتے ہیں اور ان کو دلت مسلم اور سکھ ،مسلم کے درمیان دوری و تصادم پیدا کرنے میں استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دلت ،آدی واسی سماج میں گزشتہ کچھ عرصے سے سماجی بیداری پروان چڑھ رہی ہے ،جس کی وجہ سے وہ ہندوتو وادی عناصر کے ساتھ آنے سے گریز کرتے ہیں، ایک بڑی تعداد ان کی فرقہ وارانہ ذہنیت کو سمجھتے ہوئے ان سے دور و نفور ہے، اس سلسلے میں مسلم سماج خصوصا مسلم تنظیموں اور ان کی قیادت کی طرف سے رابطہ مہم چلا کر بہتر فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے، ساتھ ہی جو لوگ تاریخ کو صحیح و مستند طریقے سے سامنے لانے اور صحیح تناظر میں پیش کرنے کا کام کر رہے ہیں ان کی توقیر و حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے، گزشتہ دنوں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی توجہ سے حیدرآباد میں،” بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ ” کے عنوان سے بڑا اچھا پروگرام ہوا تھا، ابھی حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی ہند کی طرف سے نیشنل ہسٹری کانفرنس بھی اس کا ثبوت ہے کہ ملک کے بدلتے فرقہ وارانہ حالات کو تاریخ کے نام پر غلط سمت میں جانے سے روکنے کا احساس بہ تدریج پروان چڑھ رہا ہے، اس طرح کے دیگر کاموں کو بھی کرنے کی بڑی ضرورت ہے، تاکہ ملک کے حالات کے رخ کو بہتر سمت میں موڑا جا سکے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی حتی کہ عدلیہ میں بھی مشکلات اور دوہرے معیار انصاف کا سامنا ہے، عمر خالد جیسے بہت سے مسلم بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں بند ہیں جب کہ دوسری طرف مجرمانہ واقعات کے الزامات میں گرفتار بآسانی ضمانت پر رہا یا باعزت بری ہو جاتے ہیں، تقریبا ایک نوعیت کے معاملے میں دوطرح کے عدالتی فیصلے اور تبصرے سامنے آتے ہیں، یہ سرکاری اقدامات میں بھی نظر آتا ہے، بلڈوزر کارروائی اس کی واضح مثال ہے، گوری لنکیش، کلبرگی، پانسرے، دابھولکر کے قتل کے الزام میں ماخوذ افراد، گزرتے دنوں کے ساتھ بہ تدریج بری ہوتے جا رہے ہیں، اپنی زمین پر اور گھروں میں عبادت اور دیگر مذہبی عمل پر روک کو ایک جج غلط قرار دیتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا جج امن و قانون کا مسئلہ بتا کر روک کو صحیح قرار دے دیتا ہے، یہ عموما یک طرفہ ہو رہا ہے، ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا، اقتدار کی تبدیلی کا ،نظام عدلیہ پر بھی اثر صاف صاف نظر آ رہا ہے، لیکن کئی عدالتوں کے فیصلے امید جگاتے اور انصاف پر اعتماد کو بھی بڑھاتے ہیں تو کئی عدالتوں بلکہ ایک ہی عدالت کے دیگر فیصلے مایوسی میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ امید افزا بات ہے کہ ایسے مشکل و مایوس کن حالات میں بھی جمیعتہ علماء ہند اور جماعت اسلامی ہند کی لیگل سیل، عدالتی لڑائی اور انصاف دلانے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے ،اس نے بہت سے لوگوں میں امید و حوصلہ پیدا کرنے کا کام کیا ہے، مالیگاؤں دھماکے کے الزامات میں ماخوذ افراد کی رہائی و ترقی کچھ سوال ضرور کھڑا کرتی ہے لیکن مایوسی کے بجائے، انصاف پانے کی امید و جذبہ کے ساتھ جدوجہد ہی، کمزوروں و متاثرین کی زندگی کی ضمانت اور جینے کی صحیح راہ ہے، بھارت میں انتخابی و فرقہ وارانہ سیاست کی خرابیوں سے ہر ممکن طور سے بچتے ہوئے آگے بڑھنا وقت کا اہم تقاضا ہے، اس سلسلے میں مسلمانوں کی حالت بہت سنگین، اور خطرات سے پر ہے اس لیے ان کو دیگر کی بہ نسبت زیادہ بیدار و ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، غفلت و لا پروائی کے دوررس اثرات و نتائج مرتب و برآمد ہوں گے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔